Friday, January 30, 2009
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے
بدلتا ہے روپ انسان کیسے کیسے جی دوستوں ساتھوں ۔ دشمنوں ،آپ کا کیا خیال ہے میرا اشارہ آپ سمجھ گے ہوں گے ۔ اس دنیا میں جو کچھ آپ نے نیکی یا کسی کا بھلا ۔ کسی کی مدد ۔ کسی کی راہنمائی کی ہو ۔اور جواب میں ؟؟؟
پروین شاکر )
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے
موج مڑنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ناو ڈالی اور دھارا اور ہے۔
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے
متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
اسماں کا ہی اشارہ اور ہے
دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے
ہارنے میں انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
سکھ کے موسم انگیوں پر گن لیے
فصل غم کا گوشوارہ اور ہے
دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے
اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
اسماں پر ایک تارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے
بدلتا ہے روپ انسان کیسے کیسے جی دوستوں ساتھوں ۔ دشمنوں ،آپ کا کیا خیال ہے میرا اشارہ آپ سمجھ گے ہوں گے ۔ اس دنیا میں جو کچھ آپ نے نیکی یا کسی کا بھلا ۔ کسی کی مدد ۔ کسی کی راہنمائی کی ہو ۔اور جواب میں ؟؟؟
پروین شاکر )
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے
موج مڑنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ناو ڈالی اور دھارا اور ہے۔
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے
متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
اسماں کا ہی اشارہ اور ہے
دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے
ہارنے میں انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
سکھ کے موسم انگیوں پر گن لیے
فصل غم کا گوشوارہ اور ہے
دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے
اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
اسماں پر ایک تارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے
Tuesday, January 27, 2009
اظہار کو چاہئے راستہ
دوستوں اظہار چاہئے نثری شکل میں ہو ، کہ شاعری کی صورت میں ،لطیفہ ، ہو یا پھر کوئی اچھی یاد ۔ آپ سب کو اجازت ہے اپنے بیاں کو قلم کا رنگ دینے کا ۔ اور دوسروں کو بھی اپنی خوشی اور غمی میں شامل کرنے کا ۔ بس خیال رہئے کہ کسی کی دل آزاری یا کسی کے ساتھ زیادتی نا ہونے پائے ۔ آپ کا پیغام جو بھی ہے ۔ راستہ اپکے سامنے ۔تو پھر ؟؟؟
Monday, January 26, 2009
قصہ ایک بریانی کا
ان دنوں کی بات ہے جب ھم چھوٹے ہوتے تھے۔ مطلب یہی کوئی 17 سال کے ھم کراچی اپنے کزن کے گھر گے ، کراچی دیکنھے کا شوق تھا، بڑی بڑی عمارات ۔ پارک لوگوں کا ہجوم ۔ ٹریفک کا شور ۔ یہ ٹی وہ پر تو دیکھا تھا ۔ لیکن اپنی ان گناہ گار انکھوں سے دیکھنے کی تمنا تھی۔ تمنا بھی کتنی خوش ہوں گی کہ میرا نام آیا ۔زیادہ دور نہیں جاوں گی ۔ اس لیے کہ واپس بھی آنا ھے ۔ میری کرزن جو میری ھی ھم عمر تھی ۔ ھم نولہ اور ھم پیالہ تھی ۔ مجھے کہنے لگی کہ آج امی بریانی پکایں گی ۔ میں نے بریانی کا نام تو بہت سنا تھا۔ لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ بس مجھے بھی بہت اشتیاق ہوا کہ چلو آج کھانے میں بریانی کھاہیں گے ۔ اور نا صرف کھاہیں گے بلکہ دیکھ بھی لیں گے۔مجھے چپ دیکھ کر میری کزن نے پوچھا تم کو اچھی تو لگتی ھے نا ، اب شرم کے مارے سر جھکا لیا ۔ اور نہایت ھی شرمائے اندز میں ہاں کیا کہ وہ یہ نا جان جائے کہ میں نے ابھی تک بریانی نہیں کھائی۔ اب تو وقت کٹے نہیں کٹتا تھا ۔ کہ کب کھانے کا وقت آئے اور ھم بریانی کھاہیں ۔باورچی خانہ سے برتن کے ٹکرانے کی آوایں زور و شور سے آ رہی تھی۔اور اس کی امی بار بار میری کرزن کو جاورچی خانے میں کام کے لیے بلوواتی تھی۔ اب تو بھوک اور زورں پر تھی ۔ کوئی ادھے گھٹنے بعد کھانا تیار ھے ۔ آواز سنائی دی ۔ سب سے زیادہ جلدی مجھے تھی ۔میز کے اردگرد بیٹھ گے ، سادہ پودنے کی چٹنی لائی گی اور اسکے بعد ڈھکنے والے دو بڑے بڑے برتن لائے گے ۔ چلو بسم اللہ کرو ۔ مجھے تو بریانی کا انتظار تھا ۔ سب نے اپنی اپنی پلیٹ میں کھانا نکالا ۔ میں نے بھی چاول ڈال لیے ۔ خدا بریانی کہاں ھے ۔ تب میری کزن کی نظر مجھ پر پڑی کیا بریانی پسند نہیں آئی ۔او دل میں سوچا یہ بریانی ہے ۔ مرغی میں چاول ڈال دیے ۔شرم کے مارے سر جھکا لیا ۔اور ہاں کہہ دیا کہ معلوم نا پڑھ جائے ۔
Saturday, January 24, 2009
سوچتے کیا ہو
آپ کے دل میں کیا ہے ؟ کیا آپ اپنے دل کی آوازِ حق دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔تو انتظار کس بات کا ہے چلے آہیں
دعا بے اثر کیوں ھے
دوستوں فلسطین پر ایک نظم لکھی آپ سب کی نزر
دعا بے اثر کیوں ھے
چار سو مایوسی کے بادل چھا رہئے ھیں
ننھے ننھے بچوں کے خواب بکھر گیئے ھیں
اپنوں پر ماتم کرتی ماوں کی امیدیں ٹوٹ چکی ھیں
بے گناہ بہنیوں کے ا نچل سمٹ گے ھیں
بے کس و بے بس بوڑھوں کے کندھے جھکے ہوئے ھیں
جاہ بجاہ لاشیوں کے انبار لگے ہوئے ھیں
چاروں طرف تاریکی ا ور گپ اندھیرا
ایسے میں اسرائیل کے گولے برس رہئے ھیں
اے میرے مولا
کن گناوں اور خطا وں کے مجرم مسلمان بنے ہوئے ھیں
کیوں ھماری دعاٰیں ھمارے اندر ھی دم توڑ چکی ھیں
عرش تک جا کر کیوں فریادیں بے اثر لوٹ رہی ھیں
اے میرے مولا
آج پھر کیوں شام غریبان اتر رہی ھ ے
پاک،، غزہ کی زمیں کربلا بن کر بارود کا دھواں اگل رہی ھے
اے میرے مولا
پیارے نبی کے صدقے ان معصوم پھولوں کو بچا لیے
ماوں کی گودں میں پھر سے ننھی ننھی کلیوں کو کھلا دے
بہنوں کی عصمت کو ظالموں کے ظلم سے بچا لیے
غزہ اور میری ارض پاک کی زمیں کو پھر سے چمن نور بنا دے
دعا بے اثر کیوں ھے
چار سو مایوسی کے بادل چھا رہئے ھیں
ننھے ننھے بچوں کے خواب بکھر گیئے ھیں
اپنوں پر ماتم کرتی ماوں کی امیدیں ٹوٹ چکی ھیں
بے گناہ بہنیوں کے ا نچل سمٹ گے ھیں
بے کس و بے بس بوڑھوں کے کندھے جھکے ہوئے ھیں
جاہ بجاہ لاشیوں کے انبار لگے ہوئے ھیں
چاروں طرف تاریکی ا ور گپ اندھیرا
ایسے میں اسرائیل کے گولے برس رہئے ھیں
اے میرے مولا
کن گناوں اور خطا وں کے مجرم مسلمان بنے ہوئے ھیں
کیوں ھماری دعاٰیں ھمارے اندر ھی دم توڑ چکی ھیں
عرش تک جا کر کیوں فریادیں بے اثر لوٹ رہی ھیں
اے میرے مولا
آج پھر کیوں شام غریبان اتر رہی ھ ے
پاک،، غزہ کی زمیں کربلا بن کر بارود کا دھواں اگل رہی ھے
اے میرے مولا
پیارے نبی کے صدقے ان معصوم پھولوں کو بچا لیے
ماوں کی گودں میں پھر سے ننھی ننھی کلیوں کو کھلا دے
بہنوں کی عصمت کو ظالموں کے ظلم سے بچا لیے
غزہ اور میری ارض پاک کی زمیں کو پھر سے چمن نور بنا دے
تمام مسلمانوں کے دلوں میں رحم اور خوف خدا سجاء دے
آج پھر کوئی خلیفہ ا بوبکر، ۔ عمر، عثمان ا ور علی بجھوا دے
Subscribe to:
Comments (Atom)
.jpg)