Monday, January 26, 2009

قصہ ایک بریانی کا

ان دنوں کی بات ہے جب ھم چھوٹے ہوتے تھے۔ مطلب یہی کوئی 17 سال کے ھم کراچی اپنے کزن کے گھر گے ، کراچی دیکنھے کا شوق تھا، بڑی بڑی عمارات ۔ پارک لوگوں کا ہجوم ۔ ٹریفک کا شور ۔ یہ ٹی وہ پر تو دیکھا تھا ۔ لیکن اپنی ان گناہ گار انکھوں سے دیکھنے کی تمنا تھی۔ تمنا بھی کتنی خوش ہوں گی کہ میرا نام آیا ۔زیادہ دور نہیں جاوں گی ۔ اس لیے کہ واپس بھی آنا ھے ۔ میری کرزن جو میری ھی ھم عمر تھی ۔ ھم نولہ اور ھم پیالہ تھی ۔ مجھے کہنے لگی کہ آج امی بریانی پکایں گی ۔ میں نے بریانی کا نام تو بہت سنا تھا۔ لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ بس مجھے بھی بہت اشتیاق ہوا کہ چلو آج کھانے میں بریانی کھاہیں گے ۔ اور نا صرف کھاہیں گے بلکہ دیکھ بھی لیں گے۔مجھے چپ دیکھ کر میری کزن نے پوچھا تم کو اچھی تو لگتی ھے نا ، اب شرم کے مارے سر جھکا لیا ۔ اور نہایت ھی شرمائے اندز میں ہاں کیا کہ وہ یہ نا جان جائے کہ میں نے ابھی تک بریانی نہیں کھائی۔ اب تو وقت کٹے نہیں کٹتا تھا ۔ کہ کب کھانے کا وقت آئے اور ھم بریانی کھاہیں ۔باورچی خانہ سے برتن کے ٹکرانے کی آوایں زور و شور سے آ رہی تھی۔اور اس کی امی بار بار میری کرزن کو جاورچی خانے میں کام کے لیے بلوواتی تھی۔ اب تو بھوک اور زورں پر تھی ۔ کوئی ادھے گھٹنے بعد کھانا تیار ھے ۔ آواز سنائی دی ۔ سب سے زیادہ جلدی مجھے تھی ۔میز کے اردگرد بیٹھ گے ، سادہ پودنے کی چٹنی لائی گی اور اسکے بعد ڈھکنے والے دو بڑے بڑے برتن لائے گے ۔ چلو بسم اللہ کرو ۔ مجھے تو بریانی کا انتظار تھا ۔ سب نے اپنی اپنی پلیٹ میں کھانا نکالا ۔ میں نے بھی چاول ڈال لیے ۔ خدا بریانی کہاں ھے ۔ تب میری کزن کی نظر مجھ پر پڑی کیا بریانی پسند نہیں آئی ۔او دل میں سوچا یہ بریانی ہے ۔ مرغی میں چاول ڈال دیے ۔شرم کے مارے سر جھکا لیا ۔اور ہاں کہہ دیا کہ معلوم نا پڑھ جائے ۔

9 comments:

  1. اللہ اس سادگی پر کون نہ قربان جائے

    ReplyDelete
  2. Ali lagta hay yah blog hum dono ka hay bas khud lihktay hain aur khud he tabsra kertay hain . kisei ki minyaat samjat tu nahi kerni paray giee . kia khyaal hay

    ReplyDelete
  3. ہاہا :P
    لگتا ہے آپ کچھ زیادہ ہی سادہ ہیں

    ReplyDelete
  4. Abdul qadus jee ap ko pehlay tu welcome kertay hain , ap nay blog ky laiye kuch likha he nahi . aur jahan tak saadgee ki baat hay woh jo umar lihki hay main log sada he hotay hain.ab yah mat pochna yah kaab ki baat hay , kuch kuch baatein raaz ???

    ReplyDelete
  5. ہاہاہا۔
    مادری زبان پشتون ہونے کی وجہ سے
    مجھے بھی تین چار سال پہلے تک بریانی کا پتہ نہیں تھا۔

    ReplyDelete
  6. ٤ سال پہلے زین تم کو بریانی کا مطلب چھوٹے ہونے کی وجہ سے نہیں پتہ تھا۔ وہسے بڑے ابھی بھی نہیں ہوئے ہاہاہا

    ReplyDelete
  7. لُطف آ گیا بریانی کا نہیں بلکہ آپ کی رُوداد کا ۔
    جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا غالباً وسط 1960ء کی بات ہے کہ ہمارے فائنل ایئر کے سالانہ امتحان کے بعد ہمارا ہوٹل میں آخری دن تھا ۔ میس بند ہوگیا تھا ۔ میں اور دو دوسرے ہم جماعت کیفے ڈی کراؤن گڑھی شاہو پر کھانا کھانے گئے ۔ ایک کہنے لگا بریانی کھاتے ہیں ۔ دوسرے نے اور میں نے قورمہ کے ساتھ تندوری روٹی منگوائی ۔ ہم نے بریانی کی شکل پہلی بار دیکھی ۔ اس کے بعد دسمبر 1996ء میں کراچی گیا تو میری پھوپھی زاد بہن کے گھر بریانی پہلی دفعہ کھائی ۔ ان کی ہاتھ کی پکی بریانی لذیذ ہونے کے لحاظ سے تمام عزیز و اقارب میں مشہور ہے ۔ پھر میں بیگم کے ہمراہ کراچی گیا تو میری بیگم نے بھی بریانی پکانے کا طریقہ سیکھ لیا ۔ جو بھی کھاتا ہے اُسے بہت پسند آتی ہے لیکن میں ٹھہرا جنگلی میں بریانی ایک مجبوری سمجھ کر ہی کھاتا ہوں ۔

    جانتی ہیں کسی زمانے میں بیانی کا نام پنجاب میں کیا تھا ؟ سلُونے چاؤل ۔ میرا خیال ہے کہ یہ نام درست تھا

    ReplyDelete
  8. اجمل جی پہلے تو بلاگ کی اس چھوٹی سی دنیا میں خوش آمدید ۔ بہت اچھا لگا آپ کا آنا ۔ بریانی کا پڑھ کر مزہ آگیا ۔ اب تو بریانی نا ہو تو دعوت پھکی سی لگتی ہے ۔ میرا قصہ بھی ۔ کافی پرانا ہے ۔ لگ بگ ١٥ سال ہو گے اس بات کو لیکن بلاگ لکھتے ہوے یاد آگیا ۔ ابھی میں نے بلاگ شروع کیا ھے لہذا زیادہ کچھ نہیں جانتی ۔ بس آپ جیسے مہربان آتے ہرئے تو انشاء اللہ تعالی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے

    ReplyDelete
  9. wah ge baryaani moun main paani. meein apna ik qisa lihkon ga.............Allah vasaya

    ReplyDelete