بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے
بدلتا ہے روپ انسان کیسے کیسے جی دوستوں ساتھوں ۔ دشمنوں ،آپ کا کیا خیال ہے میرا اشارہ آپ سمجھ گے ہوں گے ۔ اس دنیا میں جو کچھ آپ نے نیکی یا کسی کا بھلا ۔ کسی کی مدد ۔ کسی کی راہنمائی کی ہو ۔اور جواب میں ؟؟؟
پروین شاکر )
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے
موج مڑنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ناو ڈالی اور دھارا اور ہے۔
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے
متن میں تو جرم ثابت ہے مگر
اسماں کا ہی اشارہ اور ہے
دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے
ہارنے میں انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
سکھ کے موسم انگیوں پر گن لیے
فصل غم کا گوشوارہ اور ہے
دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری
پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے
اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں
اسماں پر ایک تارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے
Friday, January 30, 2009
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
.jpg)
very beautiful ghazal. Thanks for such a fantastic sharing
ReplyDelete